آج بھی ہو جو براھیم کا ایماں پیدا

آج بھی ہو جو براھیم کا ایماں پیدا میری نظریں دور بھت دور،ایک نقطے پر مرکوز ہیں۔دھندلا سا بہت ھی چھوٹا،اور کبھی نظروں کے ارتکاز سے یہ سامنے سے غائب ہوتا نظرآئے تو میرادل ڈوب جاتا ہے ۔جانے کیوں؟اس میں کونسی ایسی خاص بات ہے جس نے مجھے اپنی طرف دیکھنے پرمجبور کر دیا ہے۔کیونکہ یہ متحّرک ہے ساکت نہیں،اور اس کی یہ حرکت لمحہ بہ لمحہ اسے میرے قریب لارہی ہے… ۔مگر یہ کیا!یہ تو ایک گھڑسوار کا ھیولا سا ھے۔اب ھمارے درمیان فقط اتنا فاصلہ رہ گیاکہ میں اسے بخوبی دیکھ سکتی ہوں۔ سر پر سفید عمّامہ باندھے،چہرہ نقاب کی اوٹ میں چھپائے،سفید لباس زیب تن کئے،عربی النسل گھوڑے پر سواروہ شخص جانے کون ہے؟